محروم محکوم مقبوضہ جام پور کی پیپلز کالونی اور عرفان آباد کالونی کا سنگم اور اس کا المیہ ۔۔تحریر آفتاب نواز مستوئی

sample-ad

محروم محکوم مقبوضہ جام پور کی پیپلز کالونی اور عرفان آباد کالونی کا سنگم اور اس کا المیہ ۔۔تحریر آفتاب نواز مستوئی

محروم محکوم مقبوضہ جام پور کی پیپلز کالونی اور عرفان آباد کالونی کا سنگم اور اس کا المیہ ۔۔تحریر آفتاب نواز مستوئی

۔۔۔قیام پاکستان سے لیکر اب تک بنظر غائر اک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو عظیم اسلامی علمی ادبی ثقافتی تہذیب وتمدن کا گہوارہ قدیم تاریخی شہر جام پور جسکا قبرستان ٹھاکریوالہ اپنے وقت کے ولی اور سب سے زیادہ حفاظ قران مجید کو اپنی آغوش میں لئیے ھوا ھے جن کے احترام میں سلطان العاشقین حضرت خواجہ غلام فرید گھوڑی سے اتر کر ننگے پاوں اس شہر سے گزرتے تھے ۔جہاں سخی لال پروانہ ۔سید محسن شاہ المعروف مسن شاہ بخاری جیسی روحانی ھستیوں کے مزارات اقدس مرجع الخلائق ھیں یہ وہ شہر ھے جہاں برصغیر پاک وھند کی عظیم عالمی تنظیم اھلسنت والجماعت کی بنیاد رکھی گئی جسکی درسگا مدرسہ اسلامیہ سے امام انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھی نے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔جی ھاں یہ وہ شہر ھے جسکے نیل ( کپڑے دھونے والا ) کی پورے ھندوستان میں مارکیٹنگ ھوتی تھی جہاں کی تیار کردہ لکڑی کی منقش و دلکش مصنوعات پوری دنیا میں مشہور تھیں جہاں دیسی کشتی کبڈی کے ساتھ ساتھ والی بال اور فٹ بال کے آل ھند اور بعد ازاں آل پاکستان ٹورنامنٹ منعقد ھوا کرتے تھے جسکے مشرقی کنارے نالہ سون نہ صرف نہری پانی فراھم کرتا تھا بلکہ اس وقت کے ضلع ڈیرہ غازیخان کے نامور لوگ یہاں پل لنڈی پتافی ۔7 خانی پل ۔منشی حکم چند کے باغ اور کوٹلہ چونگی کے مراکز پر “سانونی ” منانے آتے تھے جامپور کو اس حوالے سے بھی نمایاں مقام حاصل تھا کہ اسکی سبزی پشاور سے لیکر سندھ و بلوچستان کے دور دراز علاقوں تک جایا کرتی تھی تحریک پاکستان اور تحریک نفاذ نظام مصطفے ا میں قیدو بند کی صعوبتوں کے ساتھ ساتھ جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے اس شہر میں عالمی سطح کی محافل مشاعرہ منعقد ھوا کرتی تھیں نجانے اس ھنستے بستے مسکراتے شہر کو کیسی نظر لگی کہ یہ روز بروز اجڑتا ھی چلا گیا یہ بھی تو ھو سکتا ھے کہ اس دھرتی پر ھونے والے مظالم یا بے انصافیوں کے باعث کسی مظلوم بے بس کی ” آہ ” نکلی ھو ۔اور اسی ” آہ ” پر ھی خالق کائنات کا عرش ہل گیا ھو جسکے نتیجے میں اس شہر کو ” مقامی قیادت ” سے ھمیشہ کیلیے محروم کر دیا گیا ھو۔ کہتے ھیں کہ ھر دعا اور بد دعا سے پہلے عرش والے کے پاس ” آہ ‘ پہنچتی ھے جسکے لیے مالک و خالق کائنات کو نہ تو کسی سے رپورٹ طلب کرنا پڑتی ھے نہ کوئی انکوائری کمیشن بنانے کی ضرورت ھوتی ھے نہ ھی کسی عالیہ یا عظمی ا میں پیٹیشن دائر کرنے کی ایڈوائس دینا پڑتی ھے بلکہ فوری سماعت فوری فیصلہ فوری سزا کے قانون کے تحت عملدرآمد کروا دیا جاتا ھے ۔یہی وجہ ھوگی کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک ریکارڈ میں یہ شہر ایک ” مقبوضہ راجدھانی ” کے طورپر چلا آرھا ھے قانون پٹہ داری کے مطابق ” پٹہ دار ” کچھ نہ کچھ معاوضہ یا ھدیہ بطور پٹہ ( لیز ) ادا کرتا ھے لیکن اسکے بر عکس جبری قابض کچھ بھی نہیں دیتا کیونکہ وہ اپنی طاقت اور زور آوری کی بنیاد پر جہاں جی چاھے چڑھ دوڑتا ھے اور اسکے عزائم بھی ھمیشہ توسیع پسندانہ ھوتے ھیں اس قدر حریص ھوتا ھے کہ زندگی کی آخری سانس تک اپنی مفتوحہ یا مقبوضہ دھرتی کو کسی قیمت پر چھوڑنے کو تیار نہیں ھوتا بلکہ اس کا قبضہ نسل در نسل منتقل ھوتا رھتا ھے گو کہ ھر دور کے قابض ” شہنشہاہ ” کا طریق کار اپنا اپنا ھوتا ھے لیکن رعایا کو تقسیم کرنے اور اسکا استحصال کرنے کا طریقہ واردا ت یا ایجنڈا مشترکہ و متفقہ ھوتا ھے ۔تاریخ گواہ ھے کہ ھر دور کے ” شاھوں ” نے سب سے پہلے اپنی مقبوضہ و مفتوحہ دھرتی کے باسیوں میں سے ھمیشہ معاشی طور پر کمزور مگر لالچی مفاد پرست عناصر کو تلاش کیا انہیں اپنے ” درباروں ” میں ان کی چاپلوسی اور خوشامد کی بنیاد پر نمایاں حیثیت عطا کی اور پھر انہی کو ایک دوسرے کا مخبر بنا کر فن منافقت سے روشناس کرایا اپنے ھی وفاداروں کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کر کے آپس میں لڑایا انہی میں سے چند پڑھے نیم خواندہ درباریوں جن کی چرب زبانی اور خوشامد باقیوں کی نسبت زیادہ ھوئی کو منشی یا مینیجر کے القاب عطا کئیے کچھ کو جنرل مینیجر کے رتبہ سے بھی نوازا پھر انہی کو کسی سدھائے ھوئے گھوڑے کی طرح میدان میں چھوڑ دیا جنہوں نے سرپٹ دوڑ کر ریس جیتنے کی حوس میں اپنے ھی طبقہ کے لوگوں کو اس قدر کچلنا شروع کیا کہ بھائی کو بھائی سے بیٹے کو باپ سے ٹکرا دیا اور ” حب شاہ ” میں ایسے ایسے خوفناک اقدامات اٹھائے کہ عام آدمی سہم گیا انتقامی سیاست کو فروغ دیا گیا لوگوں کے ذرائع روزگار چھینے گئے پھر محکومیت اور محرومی کا ایسا سلسلہ چلا کہ جو تھمنے کا نام لینے کو بھی تیار نہیں جس کے نتیجے میں ایک ٹھوس اور واضح مثال یہ کالونیاں ھیں ۔اختلاف رائے اپنی جگہ مگر اظہار رائے پر بھی پابندی نہیں لگائی جا سکتی وجہ یہ ھے کہ اس کالونی کا نام ” پیپلز کالونی ” کیوں ھے ؟ نیز اس کالونی سمیت ملحقہ آبادی کے ووٹ کسی ” زور آور ” کی بجائے مسلسل ایک سیاسی جماعت کو کیوں ملتے ھیں ؟ ایسی سینکڑوں مثالیں موجود ھیں شہر بھر کا نظارہ کیا جا سکتا ھے جس کالونی یا محلے گلی میں دور حاضر کے ” شاھوں ” کے مداح یا قصیدہ خواں نہیں رھتے وھاں ٹف ٹائل اور نالی کی تعمیر تو کجا کمیٹی کا عملہ بھی جھاڑو تک دینا پسند نہیں کرتا اور اس ” منفی غیر جمہوری غیر اخلاقی طرز عمل ” کو گزشتہ چالیس پینتالیس سال سے ھم بھی چشم گنہگار سے دیکھتے چلے آرھے ھیں لاکھ شور مچا لیں میڈیا ٹرائل کر لیں اپنی بے بسی کا تماشہ بنانے اور دکھانے کے سوا کچھ نہیں ھاتھ آنے والا ۔۔آخری حل کے طور پر اگر اس شہر بے نوا کا حسن واپس لانا ھے تو پھر ” راہ نجات ” اختیار کرنا ھوگی جو سیدھا پاک پرور دگار سے ملاتی ھے اور وہ ھے صدق دل سے توبہ ۔۔۔اور وہ توبہ ھے منافقت نفرت مفاد پرستی لالچ کو ھمیشہ کیلئے ختم کرنے کی جس دن جسم پور کاھر شہری سچے دل سے عہد کر لے گا کہ میں نے اس شہر کو پاک صاف کرنا ھے ” ھمہ قسم گندگی ” سے اس شہر کو محفوظ اور پر امن بنانا ھے اپنی نسلوں کیلیے تو یقین کر لیجیے یہ شہر اک دن ” جنت نظیر ” شہر بن جائے گا آزمائش شرط ھے چھوڑیں حکومت کو خود رضاکارانہ طور پر آگے بڑھیں ( بے شک رضا کاریت پیمبری شیوہ ھے ) یہ محلے صاحب حیثیت لوگوں کا مسکن ھیں جہاں عالم فاضل کامل شخصیات رھائش پذیر ھیں جہاں انجینئرز ‘ ڈاکٹرز ‘ وکلاء علماء سیاسی وسماجی فعال ورکرز اور زمیندار و تاجر حضرات کے گھر اور کوٹھیاں ھیں خود بنا لیں اس روڈ کو گلیوں کو صدقہ جاریہ بھی اور آئے روز کی اذیت سے نجات بھی وگرنہ چیخ وپکار آہ و زاری نوحہ خوانی سے بھی آگے ماتم داری یا زنجیر زنی بھی کریں تو ” یزیدی درباروں ” سے مکروہ قہقہوں طنز وتشنیع کے سوا کچھ نہیں ملے گا ۔۔۔وما علینا انالبلاغ ۔

sample-ad