جلدی شادی کرکے انوکھا کام نہیں کیا، اداکارہ رباب ہاشم

sample-ad

خوبرو اداکارہ رباب ہاشم نے کہا ہے کہ انہوں نے والدین کے دباؤ میں آکر شادی نہیں کی، جلدی شادی کرکے انوکھا کام نہیں کیا۔

تعلیمی اداروں میں میڈیا سائنس کی تدریس کا آغاز ہونے سے جہاں مختلف چینلز کو باصلاحیت کام کرنے والے افراد ملے وہیں فن اداکاری کا شوق رکھنے والوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مواقع بھی مل رہے ہیں ۔ڈرامے ہوں یا فلم انڈسٹری ،نیا ٹیلنٹ سامنے آ رہا ہے۔ ماضی کے مقابلے میں اب تعلیم یافتہ اور باصلاحیت لڑکیوں کی تلاش نا ممکن نہیں رہی۔ اچھے گھرانوں کی لڑکیوں نے فیشن و ماڈلنگ کی دنیا میں رنگ جمانے کے بعد ٹی وی و فلم انڈسٹری میں کام کرنے کو معیوب سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔

ٹی وی و ماڈلنگ کی دنیا میں اپنا مقام بنانے والی 5فٹ 8انچ قد کی حامل رُباب ہاشم سے ملاقات ہوئی تو اندازہ نہیں تھا کہ اتنی کم عُمری میں اُن کے کریڈٹ پر کامیاب و مقبول ڈرامے ہوں گے۔بزنس منیجمنٹ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ناپا جیسے بین اُلاقوامی معیار کے انسٹی ٹیوٹ سے تربیت یافتہ رُباب ہاشم نے کہا کہ اس نے بزنس کی تعلیم کے باوجود اداکاری کے اسرار و رموز سے آگاہی کے لئے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس جیسے ادارے سے تعلیم حاصل کی ۔سینئرز سے وہ کچھ سیکھا جو میرے فنی کیریئر کے لئے سود مند ثابت ہورہا ہے۔ رباب ہاشم پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی قابل اداکارہ ہیں جنہوں نے بہت سے کامیاب ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ اس باصلاحیت اداکارہ سے مُختصر ہی سہی مگر جامع گُفتگو پیش خدمت ہے ۔

روزنامہ دنیا: رباب ہاشم کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کی کیا جلدی تھی،گھر والوں کا دباؤ تھا؟

رباب ہاشم: ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ گھروالوں کے دباؤمیں آکر شادی جلدی کرلی۔ماہ دسمبر 2020 ء میں شادی کسی کے دباؤ میں نہیں کی۔ہر لڑکی کا خواب ہوتاہے کہ اس کی شادی وقت پر ہوجائے ۔میرے والدین بھی یہی چاہتے تھے ،مجھے تعلیم کیساتھ اداکاری کرنے کی اجازت دی تو میرا بھی فرض تھاکہ بڑے جو سوچتے ہیں ،ہمارے لئے اچھا ہی سوچتے ہیں ۔سو میں نے جلدی شادی کرکے انوکھا کام نہیں کیا ۔ میرے سے سینئر و جوئینر فنکاروں نے اپنے عروج کے دور میں شادیاں کیں۔ سجل علی، حنا الطاف، دیگر نے کورونا وائرس کی وبا ء کے دوران شادیاں کیں ۔ان ساتھی فنکاراؤں کا عروج کا دور ہے ،وہ یہ فیصلہ کرسکتی ہیں تو مجھے بھی کرنے میں دیر نہیں لگی۔

روزنامہ دنیا: شادی کی خبر کے لئے سوشل میڈیا کا ہی استعمال کیوں کیا؟

رباب ہاشم: میرے شوہر کا نام شعیب شمشاد ہے ، جدید دور کے نت نئے تقاضے ہیں۔اب فنکار اپنی شادیاں کرتے ہوئے میڈیا سے دور رہنا چاہتے ہیں۔کسی قسم کی بدمزگی سے بچنے کے لئے ذاتی سوشل میڈیا آفیشل اکاؤنٹ اہم کردار ادا کررہے ہیں۔میں نے بھی اپنی شادی کی رسومات اور دیگر ایونٹس کی تصاویر شیئر کیں۔ اپنے نکاح کا ایک فوٹو شیئر کیا جس میں ،میرے شوہر اور میں نکاح کے کاغذات پر دستخط کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔فوٹو کولاج پوسٹ کرتے ہوئے کیپشن میں دل والے ایموجی کے ساتھ ’نکاح‘ لکھا۔یہ سب کچھ مجھ سے قبل میری ساتھی فنکارائیں بھی کرچکی ہیں۔

روزنامہ دنیا: اس یادگار و خوبصورت موقع پر عروسی ملبوسات کس کی پسند کے تھے؟

رباب ہاشم: اپنی زندگی کے سب سے خاص موقع پر خوبصورت عروسی لباس زیب تن کرنے کے لئے دونوں کی پسند کا خیال رکھا گیا ۔ میرے شوہر نے میرے لباس کے رنگ سے ملتی جلتی شیروانی پہنی۔ اس سے اندازہ لگالیں ہم دونوں کی پسند کتنی ملتی ہے۔

روزنامہ دنیا: اچانک شادی کی تقریبات پر مداحوں کا کیا ردعمل تھا؟

رباب ہاشم: اچانک شادی کی تقریبات نے مداحوں کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا تھا جس پر نیک خواہشات کا اظہار کرنے والوں اور مبارکباد دینے والوں کا تانتا بندھا رہا۔

روزنامہ دنیا : فنی کیریئر کی ابتداء کے بارے میں قارئین کو آگاہ کرنا چاہیں گی؟

رباب ہاشم: اپنے فنی کیریئر کا آغاز دس برس کی عمر میں بچوں کے پروگرام سے کیا تھا۔ میرا پہلا ڈراما‘ پی ٹی وی ہوم کے لئے تھا جس کی ڈائریکٹر مصباح خالد تھیں،اس سے پہلے پی ٹی وی پر ہی انور مقصود کالکھا ڈراما ہم پہ جو گُزری ہے‘ بھی کیا تھا جس کے ڈائریکٹر شاہد شفاعت تھے جو اداکارہ ثانیہ سعید کے شوہر ہیں،ثانیہ سعید نے بھی اس میں اداکاری کی تھی لیکن ان دونوں ڈراموں میں میرے کردار مرکزی نہیں تھے۔ مصباح خالد کی ڈراما سیریل داغِ ندامت، بطور مرکزی اداکارہ میرا پہلا ڈراما تھا جو پی ٹی وی ہوم سے آن ایئر گیا تھا ۔کسی نجی چینل پر پہلا ڈرامہ سیریل ’میرے محسن‘ کیا تھا جس میں اداکار سید جبران کے ساتھ مرکزی کردار نبھایا تھا۔

روزنامہ دنیا: اس کے بعد کن ڈراموں میں کام کیا؟

رباب ہاشم: سنجیدہ اور ہلکے پھُلکے، دونوں طرح کے کردار کمالِ مہارت سے نبھا نے کی کوشش کی‘ بہت کم عُمری میں شوبز انڈسٹری کا حصہ بنی اور خود کوورسٹائل اداکارہ ثابت کیا ۔قابل ذکر ڈراموں میں ضد‘ اک تھی مشال‘ مُحبت خواب سفر، میں ماں نہیں بننا چاہتی، تُم سے مل کے، عشقا وے، پیا من وے، مرضی اور منت ، دیگر شامل ہیں۔

روزنامہ دنیا: کیریئر کی پہلی ویب سیریز میں کام کرنا کیسا لگا؟

رباب ہاشم: ہدایتکار وجاہت رؤف کی ویب سیریزمیں کام کیا ۔بہت اچھا لگا۔ وجاہت رؤف کے ساتھ اس سے قبل ڈراما تُمہارے ہیں‘ میں بھی ایک ساتھ کام کر چکی ہوں ۔ اس ویب سیریز کی کہانی کالج لائف‘ مُحبت و میوزک کے گرد گھُومتی تھی۔جس میں مہوش حیات‘ اسد صدیقی اور اظفر رحمان بھی میرے ساتھ تھے۔اب جدید دور آگیا ہے ، کورونا نے لوگوں کو گھروں تک محدود کردیا ہے۔ ویب اور سوشل میڈیا کا دور ہے ۔ دنیا سے جڑے رہنے کے لئے ہمیں ڈرامہ ، فلم کے ساتھ ساتھ ویب سیریز کرنی ہو گی ۔ مجھے یہ اعزاز ملا ہے کہ ہماری پہلی ویب سیریز بین الاقوامی سطح پر متعارف ہوئی اور پروڈیوسر کو لاکھوں ڈالر ز ملے۔ فنکاروں کو ایک نئی دنیا سے جڑنے کا موقع ملا۔

روزنامہ دنیا: کیا بطور ہوسٹ بھی ٹی وی پر کام کیا؟

رباب ہاشم: شوبز سے میرا دس سال کی عُمر سے تعلق ہے جب نجی چینل پر بچوں کے ایک پروگرام کی میزبانی کرتی تھی ، اسی چینل پر دو سال تک ایک ڈاکومنٹری پروگرام کی بھی میزبانی کی پھر اسپورٹس چینل سے دوسال تک گیم شو کیا، بطور ہوسٹ بھی ٹی وی پر کئی پروگرامز کئے ہیں ۔اچھا ریسپانس ملا لیکن جو مزہ اداکاری میں ہے وہ ایک جگہ بیٹھے رہنے سے نہیں مل سکتا۔ فنکار ساکت رہ کر پرفارمنس ضرور دیتا ہے لیکن ڈرامہ کا کردار عمدہ پرفارمنس پر اسکو نئی شناحت دینے کا باعث بن جاتاہے۔

روزنامہ دنیا: اپنے سٹار کے بارے میں بتائیے گا؟

رباب ہاشم: میری تاریخِ پیدائش 28 نومبر ہے، اس حساب سے میرا سٹار قوس بنتا ہے۔ مجھ میں اپنے اسٹار کی خصوصیات پائی جاتی ہیں، کراچی میں پلی بڑھی، تعلیم بھی یہیں حاصل کی۔

روزنامہ دنیا: سٹار بننے کے لئے کیا کچھ کیا ؟

رباب ہاشم: نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) میں گریجویٹ ہوں، ایکٹنگ باقاعدہ پڑھی ہے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ ناپاکے پہلے بیج میں سب سے کم عُمر گریجویٹ تھی،میری عُمر اُس وقت 16برس تھی۔مارکیٹنگ میں بی بی اے آنرز کرنے کے بعد مُکمل طور پر اداکاری سے وابستہ ہوگئی اور آغاز میں ہی اچھے پراجیکٹس مل گئے، ضدکے علاوہ پیا من بھائے، تُم سے مل کر، سرتاج ول،میرے درد کی تُجھے کیا خبر، ابتدائی ڈرامے ہیں۔

میزبانی سے اداکاری کی طرف آنے کے حوالے سے رُباب ہاشم نے بتایا کہ اداکاری تو میں نے ناپا میں تین سال تک پڑھی ہے جہاں طلعت حُسین‘ راحت کاظمی اور ضیا مُحی اُلدین میرے اساتذہ تھے، وہاں دورانِ تعلیم بھی اداکاری کرنا چاہتی تھی مگر پڑھائی کی وجہ سے وقت نہیں مل سکا تھا، اب بھی کبھی کبھار کسی پروگرام کی کمپیئرنگ کر لیتی ہوں مگر اداکاری میں زیادہ مزہ آتا ہے اگرچہ اس میں وقت بہت زیادہ لگتا ہے لیکن مُجھے بوریت کا احساس نہیں ہوتا،ویسے اداکاری تھکا دینے والا کام ہے جو ہر کوئی نہیں کر سکتا۔

پسندیدہ کرداروں کے حوالے سے رُباب ہاشم نے بتایا کہ میں ہر طرح کے کردار بخوبی کر سکتی ہوں، ہر کردار میں نیا تجربہ کرتی ہوں، خود کو خاص قسم کے کرداروں تک محدود رکھنا نہیں چاہتی بلکہ خود کو دریافت کرنا چاہتی ہوں،اس وقت اداکاری کررہی ہوں تو بھرپور لُطف اندوز ہو رہی ہوں، میزبانی بھی کرتی ہوں، وہی کام کرتی ہوں جس سے مُجھے مزہ آئے اور وہ بوجھ نہ لگے۔

تھیٹر پر کام کرنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ راحت کاظمی کے ساتھ بجلی پیار اور ابا جان،اور آدھے ادھورے کر چُکی ہوں۔ ایک رُوسی کھیل میرج پروپوزل، بھی کیا جسے زین احمد نے ڈائریکٹ کیا تھا، یہ کھیل ہم دوتین بار پیش کر چُکے ہیں۔راحت کا ظمی‘ ضیا مُحی اُلدین اور طلعت حُسین جیسے لوگ واقعی لیجنڈز ہیں۔قوی خان سے بھی بہت کُچھ سیکھا ہے اس لئے رول ماڈل کے طور پر کسی ایک کا نام نہیں لے سکتی جہاں تک ساتھی فن کاروں کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی کا تعلق ہے تو سمیع خان‘ احسن خان اور عدنان صدیقی کے ساتھ کام کرکے اچھا لگا ہے۔

پاکستانی ڈرامے کے ماضی پر گُفتگو کرتے ہوئے رُباب ہاشم نے بتایا کہ ہر چیز وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے،ماضی کا ڈراما آج کے ڈرامے سے قدرے مُختلف ہے‘ اب نئے لوگ آگئے ہیں‘ ٹیکنالوجی میں بھی بہت جدت آگئی ہے‘ ڈائریکٹر بالکل مُختلف انداز میں کام کررہے ہیں‘ اگلی دہائی میں ہمارا ڈراما بالکل ہی تبدیل ہو جائے گا جہاں تک کہانیوں میں کسی حد تک یکسانیت کا تعلق ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشرے میں ایسا ہی کُچھ ہورہا ہے، اگر اکثر کہانیاں عورت کی مظلومیت کے گرد گُھوم رہی ہیں تو ایسا نہیں ہونا چاہئے،اگر چہ ایسے ڈراموں کی ریٹنگ زیادہ آتی ہے لیکن ریٹنگ ہی سب کُچھ نہیں ہے‘ کُچھ معاشرتی ذمے داریاں بھی ہم پر عائد ہوتی ہیں جن کے لئے ہمیں نئے نئے موضوعات کو بھی ڈراموں کا حصہ بنانا چاہئے‘ ہمارے اسکرپٹ کے شعبے میں بہتری کی گُنجائش ہے‘ موضوعات میں بھی جدت لانے کی ضرورت ہے۔

رُباب ہاشم نے کراچی اور لاہور میں کام کے فرق کے حوالے سے بتایا کہ کراچی میں کام بہت تیز ہوتا ہے، لاہور میں بھی کام کرکے بہت مزہ آتا ہے لیکن یہاں کسی حد تک پروفیشنل ازم کا فُقدان نظر آیا، اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ لاہور میں زیادہ کام نہیں ہورہا،جب یہاں بھی زیادہ کام ہوگا تو وہ بھی وقت کی قدر کرنے لگیں گے۔

فلموں میں کام کرنے کے حوالے سے رُباب ہاشم نے بتایا کہ مُجھے ایک آدھ فلم کی پیشکش ضرور ہوئی لیکن اسکرپٹ دیکھ کر کام نہیں کیا کیونکہ ابھی میرے پاس بہت وقت ہے، ہاں مُستقبل میں بہت اچھی فلم کی پیشکش ہوئی تو ضرور کام کروں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب شادی شدہ ہوگئی ہوں اگر شوہر کی مرضی ہوئی تو فنی کیریئر جاری رکھوں گی۔

تحریر: مرزا افتخار بیگ

sample-ad