آواز حقوق جام پور ۔۔۔قصہ درد سناتے ھیں کہ مجبور ھیں ھم

sample-ad

آواز حقوق جام پور ۔۔۔قصہ درد سناتے ھیں کہ مجبور ھیں ھم

۔تحریر آفتاب نواز مستوئی ۔

بے شک اس شہر بے نوا میں . سابقہ اور دور حاضر کے “ناجائز جبری معززین ” کو ھماری بات یا تحریر ناگوار گزرتی ھے اور اپنے اپنے “مائی باپ “کے سامنے یہی راگ الاپتے ھیں کہ ” دیکھیں سر آپکی توھین کر دی جناب یہ آپکا مخالف ھے اسکی عادت ھی یہی ھے وغیرہ وغیرہ “پتہ نہیں کب تک ان “مفاد پرست چرب زباں نا اھل اور تنگ نظر عناصر “کی جھوٹی انا کی بھینٹ ” ھم جیسے خاموش قلمکار چڑھتے رھیں گے ۔ھر دور میں حقائق کو مسخ کر کے اپنی جھوٹی انا اور بونے پن کا قد بڑھانے کیلئے جام پور کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا انہی لوگوں نے ۔۔۔صورتحال یہ ھے کہ اس شہر میں آج تک پلاننگ اور حالات کے مطابق کوئی ترقیاتی کام ھوا ھی نہیں ۔۔وزیر اعلی ا پنجاب کا نام نہاد ترقیاتی پیکیج 5 ,ارب روپے ۔۔۔۔کیا حشر ھوا سب پر عیاں ھے اور چار پانچ سال گزر گئے آج تک مین فورس سپورٹ لائن سیوریج ( پبلک ھیلتھ نالہ سون ) مکمل نہیں ھو پائی ۔نہ ھی درہ باغ والا محلہ کوٹلہ پیرن شاہ چوٹی چوک فیصل کالونی کھوسہ کالونی۔مندو والا ۔مسن شاہ چانڈیہ چوک حیدریہ کالونی وغیرہ کی صورتحال بہتر ھو پائی ۔میونسپل کمیٹی کا اعتراض اپنی جگہ درست کہ محکمہ پبلک ھیلتھ نے میونسپل کمیٹی کی انجئینرنگ برانچ سے کوئی مشاورت ھی نہیں کی یہی رویہ محکمہ ھائی وے نے بھی روا رکھا ناقص روڈز زگ زیگ سائیڈ نالے اور یہ جا وہ جا ۔۔۔دوسری جانب میونسپل کمیٹی کی صورتحال وسائل محدود فنڈز ندارد آمدنی کے ذرائع صفر اس پر طرہ یہ کہ 1985 سے نئی بھرتی پر تخت لہور یعنی پنجاب حکومت کی پابندی ۔۔جو ملازمین ریٹائرڈ ھوئے یا فوت ھوئے ان کی جگہ آج تک نئی بھرتی ھی نہیں کی گئی میونسپل انجینئر۔ میونسپل ریگولیشن آفیسر ۔نقشہ نویس انفورسمنٹ آفیسر ۔پلاننگ آفیسر لائٹ انسپکٹر ۔ٹیکس انسپکٹر ۔تہہ بازاری انسپکٹر ۔مستری ۔مکینک ۔ڈرائیور ۔میٹ ۔مالی ۔سیوریج سسٹم انچارج ۔پلمبر ۔سیور مین کی آسامیاں خالی پڑی ھیں حتی ا کہ سینٹری انسپکٹر کی دوسری آسامی خالی چلی ارھی ھے ۔پانچ کروڑ کی مشینری تو خرید لی گئی مگر اسے چلائے کون؟۔جنرل بس اسٹینڈ ویران پڑا ھے شہر کا شہر تجاوزات مافیاء کے گھیرے میں ھے ایڈمنسٹریٹرصاحب یا چیف آفیسر صاحب عملہ سمیت کاروائی کر کے آتے ھیں سفارشوں کاانبار لگ جاتا ھے اور پھر وھی ” لکھ پتی غریب ” دوبارہ روڈ پر دوبارہ قبضہ کر لیتے ھیں ٹریفک چوک پر ٹیکسی کار مافیاء نہایت ڈھٹائی کے ساتھ قابض ھے چنگ چی موٹر سائکل رکشہ بے قابو پھٹہ رکشہ مافیہ الگ سے “دادا گیری ” جمائے ھوئے ھے ۔بطور شہری بطور سول سوسائٹی ھم۔میں سے بھی کسی کی جرات نہیں کہ ان کو سمجھا سکیں کہ اپنی روزی روٹی ضرور کماو مگر خدارا خلق خدا کیلئیے اذیت کا باعث تو نہ بنو ۔۔۔۔خیر یہ تو اک طویل داستان ھے جتنا لکھا جائے کم ھے آتے ھیں اصل صورتحال کیطرف ۔پہلے تو محکمہ ھاوسنگ اینڈفزیکل پلاننگ والوں نے 1983.84 ,میں ھی اندرون شہر کو سیوریج سسٹم کیلئیے نا موزوں قرار دیا تھا اور اوپن ڈرینیج سسٹم کو ترجیح دی تھی ۔مگر ھر دور اقتدار کے شاھوں کی اپنی خواھشات کے پیش نظر تنگ علاقوں میں بھی سیوریج لائن بچھا دی گئی کسی جگہ 14 انچ قطر کے پائپ تو کہیں 9 انچ قطر ۔پھر ڈسپوزل اسکیمیں بنا دی گئیں جنہیں کم و بیش 40 سال کا عرصہ گزر چکا اور یہی مدت سیوریج لائنوں کی بھی ھے جن کی اصولی معیاد دس سال ھوا کرتی ھے ھوا یوں جہاں لائن ٹوٹی بلدیہ نے نظام چلانے کیلئیے پائپ ڈال دیا اور تاحال ” پنکچر شدہ ” سیوریج لائن سے کام چلایا جا رھا ھے مین فورس سپورٹ لائن جسے سب سے پہلے بنایا جانا ضروری تھا آج تک مکمل ھی نہیں ھو سکی محکمہ پبلک ھیلتھ کے مطابق 30 کروڑ کی رقم مزید خرچ ھو گی تب جاکر یہ منصوبہ مکمل ھوگا نجانے کب فنڈز ریلیز ھوں اور کب یہ منصوبہ مکمل ھو مگر جو ڈسپوزل اسکیمیں چل رھی ھیں عمومی طور پر ھر ماہ یا دو ماہ کے اندر ان کی الیکٹرک موٹریں یا تو جل جاتی ھیں یا ان کی شافٹ وغیرہ یا کوئی پرزہ ٹوٹ جاتا ھے کبھی وھاں بجلی کی وائرنگ جل جاتی ھے یہ سب کچھ اتفاقیہ ھوتا ھے یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس بحث میں پڑے بغیر بلدیہ حکام سے گزارش ھے کہ اس شعبہ کے ماھرین کی ٹیم سے ان ڈسپوزل اسکیموں کا معائنہ اور تجزیہ کروایا جائے جو فنی خرابیاں ھیں وہ دور کروائی جائیں اگر واقعی یہ الیکٹرک موٹریں بوسیدہ ھو چکی ھیں تو ان کو اور بلدیہ کمپلیکس میں موجود تمام ناکارہ مشینری کو نیلام کر کے فی الفور نئی موٹریں نصب کی جائیں منتخب نمائندوں سے التماس ھے کہ وہ حکومت پنجاب سے میونسپل کمیٹی جام پور جسکی حدودپہلے سے سہ گنا زیادہ بڑھ چکی ھیں کیلئیے صوصی گرانٹ منظور کروائیں حسب ضرورت عملہ کی بھرتی اور خالی آسامیوں پر آفیسرز کی تقرری منظور کروائیں ۔شہریوں سے گزارش ھے کہ یہ شہر ھم سب کا ھے مل جل کر تمام سیاسی و فروعی وگروھی اختلافات سے بالا تر ھو کر شہر کی بھلائی کا سوچیں بلدیہ حکام یا ملازمین پر تنقید کی بجائے حقائق کو سنجھیں جنہوں نے یہ مسائل حل کرنا ھیں یا کروا سکتے ھیں انہیں وفود کی شکل میں ملیں وزیر اعظم وزیر اعلی ا کو گزارشات کریں اپنے اپنے انداز تکلم اور انداز تحریر سے حقیقی اجتماعی مسائل کو اجاگر کریں ۔ تاجر راھنماوں سے گزارش ھے کہ تجاوزات کنندگان کو پیار سے سمجھائیں انتظامیہ کے ساتھ باھم مل کر متبادل حل تلاش کریں کسی کا روز گار بھی متاثر نہ ھو اور شہریوں کے لئیے راستے بھی بند نہ ھوں ۔۔۔۔